Controversial decision in the Pentagon US Army Chief suddenly dismissed, reasons not revealed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی آرمی ک چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا، جس کے بعد پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔
پینٹاگون نے تصدیق کی کہ جنرل رینڈی جارج فوری طور پر ریٹائر ہو رہے ہیں، تاہم ان کی برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ سرکاری بیان میں ان کی طویل خدمات کو سراہا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کے تحت مزید اعلیٰ افسران بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین شامل ہیں۔ ماہرین اسے وزیر دفاع کی جانب سے پینٹاگون کی قیادت کو تیزی سے تبدیل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا بڑا ایکشن: اٹارنی جنرل پام بونڈی برطرف، ایپسٹین فائلز تنازع نے معاملہ بگاڑ دیا
ادھر جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری طور پر آرمی چیف کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینئر فوجی قیادت کو بھی اس فیصلے کا علم اسی وقت ہوا جب اسے عوامی سطح پر جاری کیا گیا۔
یہ پیش رفت غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ جنگی حالات میں کسی حاضر سروس آرمی چیف کو ہٹانا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
جنرل جارج 2023 میں اس عہدے پر فائز ہوئے تھے اور ان کی مدت ابھی باقی تھی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی اچانک برطرفی پینٹاگون میں جاری بڑی تبدیلیوں کا حصہ ہے، جس سے آئندہ فوجی حکمت عملی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔




