Conditional talks offer TTAP's blunt stance, founder's release first condition
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے حکومت کی مذاکراتی پیشکش پر مثبت اشارہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بات چیت کا آغاز آئینی بالادستی، جمہوری اصولوں اور اعتماد سازی کے اقدامات سے مشروط ہوگا۔ اتحاد نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی فوری رہائی اور دہشت گردی کے خلاف جامع قومی حکمتِ عملی کی تشکیل کو مرکزی شرط قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اہم مشاورتی اجلاس میں اتحاد کی اعلیٰ قیادت نے موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومتی بیانات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں سربراہ محمود خان اچکزئی، قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، مصطفی نواز کھوکھر اور اسد قیصر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مذاکرات کا فریم ورک شفاف اور آئینی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی تجویز پر اتحاد نے اپنی قیادت کو حکومت سے باضابطہ رابطے کا اختیار دے دیا۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور امکان ہے کہ رمضان کے دوران ابتدائی رابطے کیے جائیں گے۔
مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں اتحاد نے عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں ناانصافی کے تحت قید رکھا گیا ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کرایا جائے اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقات کی مکمل اجازت دی جائے۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہصاحبزادہ حامد رضا سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ٹی ٹی اے پی نے دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاق صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی تشکیل دے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔





