Border closure causes billions of rupees blow to KP, trade drops by 53%
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تین ماہ سے زائد عرصے سے تجارتی راستوں کی بندش نے خیبرپختونخوا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث صوبے کو اربوں روپے کے خسارے، برآمدات میں نمایاں کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں جمود کا سامنا ہے۔
پاکستان۔افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ضیاءالحق سرحدی اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے منظور الٰہی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ سرحدی تجارت کی معطلی نے برآمدات، ٹرانسپورٹ، صنعتی سرگرمیوں اور سرکاری محصولات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ خیبرپختونخوا نے اٹھایا۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کو پاکستان کی 90 فیصد سے زائد برآمدات خیبرپختونخوا کے کسٹمز اسٹیشنز، بالخصوص طورخم بارڈر، کے ذریعے ہوتی ہیں۔ سرحدی بندش کے باعث صوبے کو اب تک تقریباً 2.5 ارب روپے کے برآمدی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں کسٹمز ریونیو میں کمی سے مزید 2.5 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔
بیان کے مطابق صوبے کے برآمد کنندگان کو روزانہ 40 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ اربوں روپے مالیت کا سامان سرحد پر پھنس کر خراب ہو چکا ہے، جس میں پھل، سبزیاں، ادویات اور خام مال شامل ہیں۔
مزید خبریں : نو مئی کیس: ریڈیو پاکستان حملے کی ویڈیوز میں وزیراعلیٰ کے پی کی شناخت
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا جانے والی ٹرانزٹ تجارت، جو پہلے سالانہ 4,000 سے 5,000 کنسائنمنٹس پر مشتمل تھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے، جس سے لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا کی تقریباً 90 فیصد صنعت افغان منڈیوں پر انحصار کرتی ہے، اور اگر سرحدی بندش برقرار رہی تو فیکٹریوں کی بندش، بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں سالانہ بنیاد پر 53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اور رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں تجارتی حجم 1.26 ارب ڈالر سے کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش ہے۔






