Army Chief's categorical message in South Waziristan Taliban should stop supporting terrorism
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کریں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے دورے کے دوران کہی، جہاں انہوں نے مغربی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
بیان کے مطابق آرمی چیف نے شہدا کی یادگار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں اور قوم انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔
دورے کے دوران انہیں سرحدی صورتحال، جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سرحدی نظم و نسق کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے انہیں جاری فوجی کارروائی آپریشن غضب للحق اور پاک۔افغان سرحد پر ہونے والی تازہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت، چوکسی اور بلند حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری کے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے ہونا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے اور سرحد پار سے آنے والے خطرات کو ہر صورت ختم کیا جائے گا۔
22 فروری کو پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے بعد 26 فروری کو پاکستان نے آپریشن غضبِ لِلحق شروع کیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کابل حکومت دہشت گرد گروہوں کی معاونت ختم کرنے کی قابلِ تصدیق یقین دہانی نہیں کراتی۔



