Alarm bells ring in Tehran, British diplomatic mission temporarily closed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی ٹیلیگراف کی خبر کے مطابق ایران میں جاری شدید احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن اور امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے باعث برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرتے ہوئے سفیر سمیت تمام سفارتی و قونصلر عملے کو ایران سے نکال لیا ہے۔ برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی صورتحال کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا اور اسے ایک احتیاطی، عارضی اقدام قرار دیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر قطر میں واقع امریکا کے زیرِانتظام العدید ایئربیس سے برطانوی فوجی اہلکار بھی واپس بلا لیے گئے ہیں۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق رائل ایئر فورس کا طیارہ بدھ کے روز قطر پہنچنے کے بعد چند گھنٹوں میں برطانوی فوجی اڈے اکروتیری، قبرص واپس روانہ ہو گیا، جب کہ امریکا نے بھی عراق اور دیگر مقامات سے بعض اہلکاروں کی نقل و حرکت کی تصدیق کی ہے۔
یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ دو یورپی عہدیداروں کے مطابق امریکی مداخلت کا امکان “زیادہ” ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کارروائی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم وقت اور نوعیت تاحال واضح نہیں۔ اسی پس منظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
کشیدگی کے دوران ایران نے چند گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود تقریباً تمام پروازوں کے لیے بند کر دیں، تاہم بعد ازاں فضائی آمد و رفت بحال کر دی گئی۔ برطانیہ سمیت جرمنی، کینیڈا، اٹلی اور بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے یا فوری انخلا کی ہدایات جاری کی ہیں، جب کہ لوفتھانزا نے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے اندر دسمبر کے اواخر سے جاری احتجاج کے بعد کریک ڈاؤن مزید سخت ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جھڑپوں میں 2,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی عدلیہ نے گرفتار مظاہرین کے عوامی مقدمات چلانے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب ایران میں ایک ہفتے سے مکمل انٹرنیٹ بندش جاری ہے اور نیٹ بلاکس کے مطابق کنیکٹیویٹی معمول کے صرف ایک فیصد تک رہ گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز گھروں میں اسٹارلنک ڈیوائسز کی تلاش بھی کر رہی ہیں، جو بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ سمجھی جا رہی ہیں۔
ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر وسیع پیمانے پر کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔






