Putin-Xi Jinping meeting in Beijing, discussions expected on energy, trade and global security
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کے روز بیجنگ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنما روس اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
کریملن کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، عالمی سلامتی کی صورتحال، توانائی، تجارت اور خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی تبدیلیاں زیر غور آئیں گی۔ توقع ہے کہ دونوں رہنما ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کریں گے جس میں مستقبل کی اسٹریٹجک شراکت داری کے خدوخال واضح کیے جائیں گے۔
پیوٹن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا، جسے امریکا اور چین کے تعلقات میں بہتری کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پیوٹن کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ روس اور چین اپنے تعلقات کو بیرونی سفارتی سرگرمیوں سے متاثر ہونے نہیں دے رہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے حالیہ دنوں میں روس اور چین کے درمیان 30 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم اور گہرے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پیوٹن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد روس اور چین کے تعلقات میں نمایاں قربت دیکھنے میں آئی ہے۔ 2022 کے بعد سے پیوٹن تقریباً ہر سال چین کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ بیجنگ نے اس تنازع پر روس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے خود کو غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں تعاون بھی اس دورے کا اہم ایجنڈا سمجھا جا رہا ہے۔ روس اس وقت چین کو تیل اور گیس کی بڑی مقدار فراہم کر رہا ہے، جبکہ چین کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات ماسکو کے لیے ایک اہم معاشی سہارا بن چکی ہیں۔




