Shooting at California Islamic Center, 3 worshippers including security guard killed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع سب سے بڑی مسجد اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں دو مبینہ حملہ آور بھی شامل ہیں، جبکہ حکام نے واقعے کو ممکنہ نفرت انگیز حملہ قرار دیتے ہوئے ایف بی آئی کے ساتھ تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس کے مطابق پیر کی صبح تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر دو نوجوان حملہ آوروں نے مسجد کے باہر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی گارڈ اور دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بعد ازاں دونوں مشتبہ نوجوان ایک گاڑی میں مردہ پائے گئے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہوں نے خود کو گولیاں مار کر خودکشی کی۔
سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ وال نے بتایا کہ حملہ آوروں کی عمریں 17 اور 18 سال تھیں اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہن رکھا تھا۔ ان کے مطابق حملے سے کچھ دیر قبل ایک نوجوان کی والدہ نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اس کا بیٹا گھر سے تین ہتھیار لے کر فرار ہوگیا ہے اور اس کی ذہنی حالت تشویشناک تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد یا کسی مذہبی مقام کو پہلے سے کوئی براہ راست دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم نفرت انگیز بیانات اور مسلح نوجوانوں کی اطلاع کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے تھے۔
واقعے کے وقت مسجد میں قائم ڈے اسکول میں بچے موجود تھے، لیکن حکام کے مطابق تمام بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا اور کوئی بچہ زخمی نہیں ہوا۔
اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے امام طحہ حسنے نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
پولیس حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والا سیکیورٹی گارڈ ممکنہ طور پر مزید جانی نقصان روکنے میں اہم کردار ادا کرگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سخت سیکیورٹی نافذ کردی گئی جبکہ درجنوں پولیس اہلکار اور ایف بی آئی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نفرت اور تشدد کے لیے ہماری ریاست میں کوئی جگہ نہیں۔
امریکا کی مسلم تنظیم نے بھی حملے کو خوفناک اور اسلاموفوبیا کی خطرناک مثال قرار دیا۔





