IMF approves $1.2 billion for Pakistan, imposes new conditions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ حکومت کو مزید سخت مالیاتی اور معاشی شرائط پر بھی عمل درآمد کرنا ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق رقم آئندہ ہفتے جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ نئی منظوری کے بعد پاکستان کو اب تک آئی ایم ایف کے مختلف پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر 4.5 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سے یقین دہانی لی ہے کہ حکومت مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باوجود پہلے سے طے شدہ مالیاتی اہداف پر قائم رہے گی۔ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 3.4 کھرب روپے کے پرائمری سرپلس ہدف کو برقرار رکھنے اور اگلے مالی سال میں بھی سخت مالی نظم و ضبط اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث حکومت نے ریونیو خسارہ پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا۔ آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ ضرورت پڑنے پر منی بجٹ لایا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ پاکستان معاشی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور سخت مالیاتی پالیسیوں کے عمل کو جاری رکھے گا تاکہ معیشت کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔
معاہدے کے تحت حکومت نے بجلی اور گیس ٹیرف میں باقاعدہ ردوبدل، شرح سود میں ممکنہ اضافے اور اسپیشل اکنامک زونز میں ٹیکس مراعات مرحلہ وار ختم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان پر عائد مجموعی شرائط کی تعداد اب 75 تک پہنچ چکی ہے، جن کا تعلق مالیاتی نظم و ضبط، توانائی اصلاحات، ٹیکس نظام اور نجی شعبے سے ہے۔




