Budget preparation expedited Government orders ministries to immediately return unused funds
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے اختتام سے قبل مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور آئندہ بجٹ کی تیاری کو بروقت مکمل کرنے کے لیے تمام وزارتوں، ڈویژنز اور خودمختار اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ غیر استعمال شدہ فنڈز 10 دن کے اندر واپس جمع کرائیں۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران 10 مئی تک متوقع بچت فنانس ڈویژن کے حوالے کریں گے اور اس کی تفصیلات بجٹ ونگ کو بھی فراہم کریں گے تاکہ ریکارڈ کو بروقت اپڈیٹ کیا جا سکے۔
یہ اقدام مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ تخمینوں کو حتمی شکل دینے اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو ترتیب دینے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات چار بڑے اخراجاتی شعبوں پر لاگو ہوں گی، جن میں سول حکومت کے اخراجات ، گرانٹس، سبسڈیز اور پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے ترقیاتی فنڈز شامل ہیں۔
قانون کے مطابق یہ فنڈز ہر سال 31 مئی تک واپس کیے جاتے ہیں، تاہم اس بار پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر ڈیڈ لائن پہلے کر کے 10 مئی مقرر کی گئی ہے تاکہ وسائل کی بروقت دستیابی اور بہتر مالی منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب، حکومت پہلے ہی پی ایس ڈی پی کی مد میں 173 ارب روپے کی کٹوتی کر چکی ہے، جبکہ جولائی تا مارچ کے دوران 415 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو کل بجٹ کا 41.5 فیصد بنتا ہے۔
پارلیمنٹرینز کی اسکیموں میں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں تقریباً 70 فیصد فنڈز صرف چند ماہ میں استعمال کیے گئے۔ مجموعی طور پر 31 مارچ تک 589 ارب روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 414.96 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق فنڈز کی تقسیم مرحلہ وار کی جاتی ہے، جس کے تحت پہلے تین سہ ماہیوں میں تقریباً 60 فیصد رقم جاری ہونی چاہیے تھی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے زور دیا ہے کہ بچت شدہ فنڈز کی بروقت واپسی کے ساتھ ساتھ اضافی فنڈز طلب کرنے والے اداروں کو بھی جوابدہ بنایا جائے۔




