Challenge to Trump on war powers, legal deadline escalates crisis
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایک اہم قانونی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے، جس نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان اختیارات کے تنازع کو پھر سے نمایاں کر دیا ہے۔
وار پاورز ریزولوشن 1973 کے تحت صدر کو کانگریس کو اطلاع دینے کے بعد 60 دن کے اندر فوجی کارروائی ختم کرنا ہوتی ہے، جب تک کہ اس کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ ہو۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2 مارچ کو کانگریس کو آگاہ کیا تھا، جس کے بعد یکم مئی یہ مدت پوری ہو رہی ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 7 اپریل سے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کے باعث دشمنی کی کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں، اس لیے یہ قانونی مدت لاگو نہیں ہوتی۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی صورت میں قانونی مدت رک سکتی ہے۔
اس مؤقف کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو صدر کو 60 دن کی حد معطل کرنے کی اجازت دے۔ ان کے مطابق یہ اقدام کانگریس کے آئینی اختیار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
قانونی ماہرین بھی اس تشریح کو متنازع قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک فوجی دباؤ جیسے بحری ناکہ بندی برقرار ہے، جنگ بندی کو مکمل خاتمہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
سیاسی سطح پر بھی اختلاف واضح ہے۔ ڈیموکریٹس صدر کو کانگریس سے منظوری لینے یا کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن قیادت عمومی طور پر صدر کے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے، اگرچہ چند رہنماؤں نے احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار ہونے کے باوجود کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں اور امریکی بحری دباؤ عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
دفاعی حلقوں کے مطابق اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو امریکہ محدود مگر مؤثر فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔




