Threats to energy supply, Pakistan's blunt warning to the Security Council
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوزکی خبر کے مطابق پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات خصوصاً ترقی پذیر ممالک پر شدید ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سمندری گزرگاہوں میں خلل عالمی معیشت میں بے یقینی پیدا کر رہا ہے اور تیل، گیس سمیت اہم اشیاء کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو اس کے اثرات مہنگائی، اقتصادی نمو، کرنٹ اکاؤنٹ اور ادائیگیوں کے توازن تک پھیل جائیں گے، جبکہ ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہوں گے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق عالمی تجارت کا بڑا انحصار سمندری راستوں پر ہے، اس لیے ان میں کسی بھی رکاوٹ کے فوری اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری حدود اب عالمی جغرافیائی سیاست کا اہم مرکز بن چکی ہیں۔
انہوں نے انتونیو گوٹیرس کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل بین الاقوامی قانون، مکالمے اور تعاون میں مضمر ہے، جبکہ پاکستان نے سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کا کنونشن سے اپنی وابستگی کا اعادہ بھی کیا۔
پاکستان نے خلیجی ممالک کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک عالمی میری ٹائم سیکیورٹی اقدامات میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے، جس میں مشترکہ ٹاسک فورس 150 کی قیادت اور انسداد قزاقی آپریشنز شامل ہیں۔
پاکستان نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں اجتماعی حکمت عملی، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی عالمی امن اور معاشی استحکام کو یقینی بنا سکتی ہے۔



