IMF's grip tightens further 11 new conditions, budget approval and mandatory increase in energy prices
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام میں مزید 11 نئی شرائط شامل کر دی ہیں، جس کے بعد مجموعی شرائط کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔ نئی شرائط کے تحت حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی پابند ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ بجٹ مالی نظم و ضبط پر مبنی ہوگا اور بلند شرح نمو کے بجائے معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس حوالے سے آئی ایم ایف حکام کو بریفنگ بھی دی ہے۔
معاہدے کے تحت حکومت 2027 تک اسپیشل اکنامک زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز سے متعلق قوانین میں تبدیلی کرے گی، جس کے نتیجے میں ٹیکس مراعات مرحلہ وار ختم کی جائیں گی اور 2035 تک ان مراعات کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں فروخت سے روکنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس پر عملدرآمد رواں سال ستمبر تک متوقع ہے۔
کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے حکومت جون 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کرے گی، جبکہ اسٹیٹ بینک غیر ملکی زرمبادلہ پر عائد پابندیوں میں بتدریج نرمی کے لیے روڈ میپ تیار کرے گا۔
توانائی کے شعبے میں بھی سخت شرائط رکھی گئی ہیں، جن کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اور بروقت ایڈجسٹمنٹ یقینی بنائی جائے گی، جس میں سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر نرخوں میں ردوبدل شامل ہے۔
ایف بی آر کو جون 2026 تک آڈٹ نظام کو مرکزی سطح پر لانے اور جامع آڈٹ پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ پبلک پروکیورمنٹ قوانین میں تبدیلی کر کے سرکاری اداروں کو دی جانے والی ترجیح ختم کی جائے گی۔





