Government plans to introduce new tariff model to make electricity cheaper for industries
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت دن اور رات کے مختلف اوقات میں الگ الگ ٹیرف متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ بجلی کے استعمال کو متوازن بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار سے ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور مجوزہ ٹیرف اسٹرکچر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ توانائی نے کہا کہ ملک میں بجلی کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے بجلی کے نرخوں کو مسابقتی بنایا جا سکے اور صنعتی شعبہ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے۔
انہوں نے بتایا کہ پاور ڈویژن ٹائم آف یوز ٹیرف ماڈل پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت صنعتوں کو دن کے اوقات میں زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے گی جبکہ شام کے پیک آورز میں کھپت کم کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ نظام پر دباؤ کم ہو اور توانائی کی بہتر تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔
وزیرِ توانائی کے مطابق حکومت پاکستان کی شمسی توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور صنعتوں کو رعایتی نرخ فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی جاری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، نے حکومت کو مقامی توانائی وسائل کے استعمال کی طرف مزید توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔
ملاقات کے دوران بولورما امگابازار نے حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ عالمی بینک پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھے گا۔





