Major attack in the Gulf, oil tanker worth millions of dollars engulfed in fire
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز خبر کے مطابق خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دبئی کے قریب ایک بڑے آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
رپورٹس کے مطابق کویتی پرچم بردار آئل ٹینکر السلْمی کو مبینہ طور پر ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ٹینکر میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا جس کی مالیت 200 ملین ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکی صدر ے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبی گزرگاہ کو کھولا نہ گیا تو ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 28 فروری سے جاری ایران-امریکا کشیدگی کے بعد خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ تازہ حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تین سال کی بلند ترین سطح یعنی 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تہران اور بیروت میں مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں دھماکوں اور بجلی کی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ادھر ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





