Possible path to war with Iran Compensation and global guarantees necessary, President Pezzekiyan; Pakistan's diplomatic efforts intensified
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جاری ایران۔امریکا اور اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ہرجانے کی ادائیگی اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتوں کو لازمی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
ایرانی صدر نے بدھ کی شب سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی گفتگو کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے رابطہ کر کے جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل پر زور دیا۔
مزید پڑھیں : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران کے خلاف قرارداد منظور، خلیجی ممالک پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ایرانی صدر سے گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔ کریملن کے مطابق بعد ازاں پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کا خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم جہاں سے ایران پر حملہ کیا جائے گا وہاں حقِ دفاع کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے ایران کو جنگ بندی کے لیے دو تجاویز بھی بھیجیں، تاہم تہران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے بعد واشنگٹن نے یورپی اور علاقائی ممالک سے ثالثی کے لیے رابطے کیے ہیں۔






