Alleged plot to target US presidents exposed Pakistani suspect makes shocking revelations in Brooklyn court
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) نیو یارک پوسٹ کی خبر کے مطابق امریکا کی بروکلین وفاقی عدالت میں جاری ایک اہم مقدمے میں پاکستانی نژاد شہری آصف مرچنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایرانی خفیہ عناصر نے امریکی سیاسی رہنماؤں کے قتل کی مبینہ سازش کے لیے بھرتی کیا۔ 47 سالہ آصف مرچنٹ نے جیوری کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان کو مبینہ خطرات سے بچانے کے لیے اس منصوبے کا حصہ بنا۔
استغاثہ کے مطابق آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ اس نے دو خفیہ ایف بی آئی اہلکاروں—جو ہٹ مین بن کر اس سے ملے—کو 5 ہزار ڈالر ادا کر کے قتل کی منصوبہ بندی کی کوشش کی۔ جون 2024 میں کوئنز کے ایک موٹل میں ہونے والی ملاقات کی خفیہ ویڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی، جس میں وہ ایک ریپبلکن سیاستدان کو ہدف بنانے کی بات کرتا سنا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ممکنہ ہدف ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔
آصف مرچنٹ نے اپنی گواہی میں کہا کہ اپریل 2024 میں اس کے مبینہ ایرانی ہینڈلر نے اسے امریکا جانے اور کسی کو قتل کرانے کا کہا۔ اس کے مطابق اسے تین ممکنہ اہداف کے نام دیے گئےجن میں ڈونلڈ ٹرمپ، جو بائیڈن اور نکی ہیلی شامل ہیں۔ اس وقت ٹرمپ اور بائیڈن 2024 کے صدارتی انتخاب کے نمایاں امیدوار تھے جبکہ نکی ہیلی انتخابی دوڑ سے الگ ہو چکی تھیں۔
ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے 2022 کے آخر یا 2023 کے آغاز میں ایرانی عناصر کے ساتھ کام شروع کیا اور امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے مالی لین دین میں مدد کی۔ اس نے اپنے مبینہ رابطہ کار کا نام مہرداد یوسف بتایا اور الزام لگایا کہ وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ تھا۔ مرچنٹ کے مطابق اس کے ایران میں مقیم رشتہ داروں کو دباؤ میں لایا گیا، جس کے باعث وہ انکار نہ کر سکا۔
تاہم اس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اسے یقین تھا کہ 5 ہزار ڈالر میں کوئی سنجیدہ قاتل کام نہیں کرے گا اور وہ گرفتاری کے امکان سے باخبر تھا۔ مرچنٹ اگست 2024 میں گرفتار ہوا تھا اور اس نے دہشت گردی اور قتل کے عوض معاوضہ دینے کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے عمر قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مقدمے کی آئندہ سماعت میں استغاثہ کی جانب سے جرح متوقع ہے، جس کے بعد عدالت شواہد اور بیانات کی روشنی میں فیصلہ سنائے گی۔ یہ کیس امریکی انتخابی ماحول میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔



