Ayatollah Ali Khamenei martyred, 40 days of mourning in Iran — Tensions rise in the Middle East, Iran announces strong revenge
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ایران نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شھادت کے بعد ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وہ جاری امریکی۔اسرائیلی حملوں میں مارے گئے، جبکہ متعدد اعلیٰ سکیورٹی حکام بھی نشانہ بنے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ ایرانی قیادت کو پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر مسعود پیزشکیان نے واقعے کو عظیم جرم قرار دیتے ہوئے سات روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا، جو 40 روزہ سوگ کے علاوہ ہوں گی۔ تہران، مشہد، شیراز، یاسوج اور لُرستان میں بڑے پیمانے پر تعزیتی اجتماعات ہوئے، جبکہ بعض شہروں سے محدود پیمانے پر جشن منانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عبوری طور پر تین رکنی کونسل—صدر، چیف جسٹس اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ—قیادت کے اختیارات سنبھالے گی، جب تک نیا سپریم لیڈر منتخب نہیں ہو جاتا۔ خامنہ ای 1989 میںروح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد منصب پر فائز ہوئے تھے اور طویل عرصے تک ایران کی عسکری و سیاسی سمت متعین کرتے رہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے 27 اڈوں اور تل ابیب میں اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ قطر اور متحدہ عرب امارات میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں اور کئی ممالک میں سکیورٹی الرٹس نافذ کیے گئے ہیں۔ بغداد کے گرین زون کے قریب احتجاج رپورٹ ہوا جبکہ کراچی میں بھی مظاہروں کی ویڈیوز سامنے آئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مزید کارروائی کی صورت میں ایران کو ایسی قوت کا سامنا ہوگا جو پہلے نہیں دیکھی گئی۔ ادھر بعض امریکی مبصرین نے اس پیش رفت کو خطے کے لیے خطرناک موڑ قرار دیا ہے اور فوری مذاکرات کے امکانات کو کم بتایا ہے۔
ایرانی ہلالِ احمر کے حوالے سے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ 24 صوبوں میں کم از کم 201 افراد ہلاک ہوئے۔ جنوبی شہر میناب میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر حملے میں 148 اموات اور 95 زخمیوں کی اطلاع دی گئی ہے، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور عالمی برادری کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔



