Strong response to cross-border attacks Major counter-strike in Operation Ghazab Lal-Haq, multiple hideouts destroyed in air and ground operations
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاک۔افغان سرحد پر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ حکومت کے مطابق افغان طالبان جنگجوؤں نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں سرحد پار سے حملے کیے، جن کا فوری اور مؤثر جواب دیا گیا۔ اس کارروائی کو آپریشن غضب لِلحق کا نام دیا گیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق متعدد سرحدی چوکیوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں 58 حملہ آور ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ کم از کم 12 چوکیاں مکمل طور پر تباہ اور پانچ پوزیشنز پر قبضہ کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ناپختہ اور اشتعال انگیز حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ وطن کے دفاع میں دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرحدی کارروائیاں کالعدم ٹی ٹی پی کے دفاع میں کی گئیں اور یہ کہ کابل حکومت دہشت گرد عناصر کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاک فضائیہ نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور سرحد پار مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا اطلاعات کے مطابق ننگرہار کے علاقے میں ایک مبینہ اسلحہ ڈپو اور دیگر عسکری تنصیبات کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے نمایاں نقصان پہنچا۔ ریاستی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دھماکوں اور آگ کے شعلے دکھائے گئے ہیں
ذرائع کے مطابق طورخم اور لنڈی کوتل کے اطراف کشیدگی افطار کے وقت بڑھی۔ افغان جانب سے فائر کیے گئے چند گولے کھلے مقامات پر گرے، جن سے بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند میں سرحد پار گولہ باری سے تین خواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خار منتقل کیا گیا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ حالیہ اقدامات انٹیلی جنس بنیادوں پر، متناسب اور شہریوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے۔ ان کے مطابق سرحدی پٹی میں موجود دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ پاکستان کے اندر ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا اختلاف افغان عوام سے نہیں بلکہ ان گروہوں سے ہے جو افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔





