A stern warning on Iran, but a decision delayed Trump puts the world in uncertainty again
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونڈلڈ ٹرمپ نے اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران کے معاملے پر محتاط مگر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا تہران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پالیسی طاقت کے ذریعے امن کے اصول پر قائم ہے۔
کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے طویل خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی ازسرِنو تنظیم اور نیٹو اتحادیوں کے دفاعی اخراجات میں اضافے نے امریکا کی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکا تک مار کر سکتے ہیں، اور کہاکہ ہم نے اب تک وہ الفاظ نہیں سنے کہ ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔ صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سابقہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔
ایوان میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ ڈیموکریٹ اراکین الہان عمر اور راشدہ طلیب نے نعرے لگائے، جبکہ ال گرین کو احتجاجی پلے کارڈ لہرانے پر ایوان سے باہر لے جایا گیا۔ صدر نے ریپبلکن اراکین کی تالیوں کے درمیان ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کو کھڑا ہونا چاہیے تھا۔

ایران سے متعلق ممکنہ فوجی اقدام پر انہوں نے کوئی واضح اعلان نہیں کیا، حالانکہ حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صدر نے ایران اور اس کے اتحادیوں کو امریکی فوجیوں پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سابق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کارروائی کے بڑے اثرات مرتب ہوئے۔
ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں ان کی سفارتی کوششوں نے ممکنہ جوہری تصادم کو روکا۔ ان کے بقول، اگر میری مداخلت نہ ہوتی تو لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔
خطاب کے دوران نیوی کے ریٹائرڈ کپتان کو میڈل آف آنر بھی دیا گیا، جس پر ایوان میں بھرپور داد سنائی دی، جبکہ خاتونِ اول اور صدر کے اہلِ خانہ بھی گیلری میں موجود تھے۔




