Trump's 15-day deadline, Iran's response draft ready — War or deal, the world awaits
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ حالیہ جوہری مذاکرات کے بعد آئندہ چند روز میں اپنا تفصیلی جوابی مسودہ تیار کر لے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو ایک بار پھر انتہائی حساس بنا دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں ہونے والی بالواسطہ بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق بعض بنیادی نکات پر ابتدائی سمجھ بوجھ تک پہنچے ہیں، تاہم کئی اہم امور ابھی حل طلب ہیں۔ ان کے بقول جوابی مسودہ دو سے تین دن میں اعلیٰ ایرانی قیادت کو پیش کر دیا جائے گا، جس کے بعد ایک ہفتے کے اندر مزید مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ عراقچی نے زور دے کر کہا کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو سفارتی حل بہت کم وقت میں ممکن ہے، لیکن کسی بھی فوجی کارروائی سے عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے تہران کو 10 سے 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہوا تو بہت بری چیزیں ہو سکتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، میں محدود حملے پر غور کر رہا ہوں۔ انہیں منصفانہ معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ نتائج سنگین ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مختلف عسکری آپشنز میز پر موجود ہیں۔
ادھر حالیہ مہینوں میں ایران کے اندرونی حالات، مظاہروں کے خلاف کارروائی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ بدامنی کے دوران بڑی تعداد میں افراد ہلاک ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری فہرست کے مطابق 3 ہزار 117 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ بعض انسانی حقوق تنظیموں نے مختلف تعداد پیش کی ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور بات چیت کا راستہ اپنائیں۔





