Pakistan-Libya defense cooperation expanded, preparations to open consulate in Benghazi
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں قونصل خانہ کھولنے کے لیے لیبیا نیشنل آرمی کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس معاملے سے واقف تین ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت لیبیا نیشنل آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے پاکستان دورے کے دوران سامنے آئی، جسے لیبیا کے مشرقی حکام کے لیے سفارتی سطح پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے بن غازی میں قونصل خانہ قائم کرنے کی صورت میں وہ ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جن کی وہاں سفارتی موجودگی موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق قونصل خانے پر مذاکرات کا تعلق پاکستان اور لیبیا نیشنل آرمی کے درمیان ہونے والے 4 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جسے پاکستان کی بڑی دفاعی فروخت میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق خلیفہ حفتر نے پیر کے روز راولپنڈی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دونوں جانب سے “پیشہ ورانہ تعاون” پر گفتگو ہوئی۔ منگل کو حفتر اور ان کے بیٹے صدام خلیفہ حفتر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ لیبیا نیشنل آرمی کے میڈیا دفتر نے بیان میں کہا کہ ملاقات میں “مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے طریقوں” کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی گئی۔
پاکستان ایئر فورس کے ترجمان کے مطابق صدام حفتر نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات میں دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ تربیت پر گفتگو کی، جبکہ پاکستان نے لیبیا کی فضائیہ کی “صلاحیتوں میں اضافے” کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب پاکستان کے دفترِ وزیراعظم اور وزارتِ خارجہ نے خبر رساں ادارے کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
لیبیا 2011 میں معمر قذافی کے خاتمے کے بعد بحران کا شکار ہے اور 2014 کی خانہ جنگی کے بعد ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہے۔ مغرب میں طرابلس کی اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کا کنٹرول ہے، جبکہ مشرق اور جنوب میں حفتر کی فورسز مضبوط ہیں، جن کے زیرِ اثر بڑے تیل کے ذخائر بھی آتے ہیں۔



