
ٹرمپ کی متوقع کال سے قبل کشیدگی،کمبوڈیا۔تھائی لینڈ سرحد پر لڑائی میں شدت
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعرات کے روز کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر تازہ لڑائی چھڑ گئی، جہاں صدیوں پرانے مندروں کے قریب بھی جھڑپوں کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کرنے والے ہیں۔
عہدیداروں کے مطابق اب تک کم از کم 15 افراد جن میں تھائی فوجی اور کمبوڈین شہری شامل ہیں — اس بھڑکی ہوئی سرحدی جھڑپ میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
آدھے ملین سے زیادہ افراد جن میں اکثریت تھائی لینڈ کے باشندوں کی ہے، ان سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں جہاں لڑاکا طیارے، ٹینک اور ڈرون مسلسل حملے کر رہے ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان 800 کلومیٹر (500 میل) طویل سرحدی حدبندی پر نوآبادیاتی دور سے تنازع چل رہا ہے اور دونوں فریق چند تاریخی مندروں پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس ہفتے کی جھڑپیں جولائی کے بعد سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہیں، جب پانچ روزہ لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے تھے اور ٹرمپ کی مداخلت کے بعد ایک غیر مستحکم جنگ بندی ہوئی تھی۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ جمعرات کو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں سے بات کرنے کی امید رکھتے ہیں تاکہ ان سے جھڑپیں روکنے کا مطالبہ کیا جاسکے۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ میرا خیال ہے کہ میری ان سے کل بات چیت طے ہے۔
اے ایف پی نے سرکاری بیانات کے مطابق بتایا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو جھڑپیں دوبارہ شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو اب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہیں۔
جمعرات کی صبح تھائی لینڈ کے شمال مشرق میں سیکڑوں بے گھر افراد سورن شہر کی ایک یونیورسٹی کی عمارت میں پناہ لیے ہوئے جاگے، جسے عارضی شیلٹر بنا دیا گیا ہے۔
کچھ بزرگ خواتین مرچ کا پیسٹ کوٹ رہی تھیں جبکہ رضاکار بڑے دیگچوں میں کھانا پکا رہے تھے۔
قریب ہی 61 سالہ کسان “رَت” جنہوں نے اپنا آخری نام بتانے سے انکار کیا نے کہا کہ انہیں اس سیزن میں کساوا کی فصل لگانے سے پہلے ہی اپنے گھر سے نکلنا پڑا اور وہ اپنے آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کے ساتھ بھاگ آئیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا میں بس واپس جانا چاہتی ہوں اور اپنی زمین پر کام کرنا چاہتی ہوں۔ہر بار جب لڑائی شروع ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی ایک بار پھر رک گئی ہے۔
ثقافتی ورثہ
کمبوڈیا کے شمال مغربی صوبے اوڈار مینشے میں اے ایف پی کے صحافیوں نے بدھ کی صبح سے متنازع مندروں کی سمت سے توپوں کی گولہ باری کی آوازیں سنی ہیں۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ تھائی فورسز نے جمعرات کی صبح حملہ شروع کیا اور کھنار مندر کے علاقے میں شیلنگ کی۔
دوسری جانب تھائی فوج نے بدھ کی رات سے سا کاؤ کے کچھ حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔
تھائی فوج نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ کمبوڈین فورسز نے صبح کے وقت راکٹ فائر کیے جو سورن صوبے میں فانوم ڈونگ راک اسپتال کے قریب گرے یہ اسپتال جولائی کی لڑائی میں بھی نشانہ بنا تھا۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع کے مطابق 1,01,000 سے زیادہ افراد کو انخلا کروایا گیا ہے، جبکہ تھائی حکام کہتے ہیں کہ 4 لاکھ سے زائد شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
امریکہ، چین اور ملائشیا — جو آسیان کے چیئرمین ہیں — نے جولائی میں جنگ بندی کرائی تھی۔
اکتوبر میں، تھمپ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے ساتھ نئی تجارتی ڈیلز کی تعریف کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے ایک مشترکہ اعلامیے کی حمایت کی تھی۔
لیکن تھائی لینڈ نے اگلے ماہ اس معاہدے کو معطل کر دیا۔
اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے نے بدھ کو جاری بیان میں مطالبہ کیا کہ علاقے کے ثقافتی ورثے کے ہر پہلو کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
یونیسیف نے کہا کہ اس نے تمام متعلقہ فریقین کو عالمی ورثہ فہرست پر موجود مقامات اور دیگر اہم آثار قدیمہ کے جغرافیائی محلِ وقوع سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ کسی ممکنہ نقصان کو روکا جاسکے۔
دو ہزار آٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد کے قریب 900 سال قدیم مندر کے پاس زمین کے ایک چھوٹے حصے کے تنازع پر پہلی بار جھڑپیں ہوئی تھیں۔
دو ہزار آٹھ سے 2011 کے دوران وقفے وقفے سے ہونے والی تشدد کی کارروائیوں میں تقریباً دو درجن افراد ہلاک جبکہ دسیوں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے تھے۔






