
ایکس کے نئے لوکیشن فیچر پر آن لائن شدید تنقید
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیا فیچر متعارف ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ نئے فیچر میں اکاؤنٹس کا ملک یا خطہ ظاہر کیا جاتا ہے، جس کے بعد صارفین نے مبینہ ٹرول فارمز اور بیرونی اثر و رسوخ کے نیٹ ورکس کا پتا لگانا شروع کردیا، خاص طور پر وہ اکاؤنٹس جو پرو-ٹرمپ مواد پھیلا رہے تھے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ، نکیتا بیئر نے ہفتے کے آخر میں یہ ٹول متعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پلیٹ فارم پر شفافیت بڑھانا ہے، جو ماہرین کے مطابق غلط معلومات پھیلانے کے لیے بدنام ہے۔
بیئر نے ایکس پر لکھا“یہ عالمی ٹاؤن اسکوائر کی سالمیت یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔”
پرو-ٹرمپ اکاؤنٹس بے نقاب
اس فیچر کے آنے کے فوراً بعد صارفین نے متعدد دائیں بازو کے ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جو بظاہر امریکہ میں موجود دکھائی دیتے تھے مگر دراصل نائجیریا، بنگلہ دیش اور مشرقی یورپ جیسے علاقوں سے چلائے جا رہے تھے۔
نیوزگارڈ کی تحقیق میں سامنے آیا کہ کئی بااثر پرو-ٹرمپ اکاؤنٹس، جو “میکا” اور “امریکہ فرسٹ” قسم کا مواد شیئر کرتے ہیں، بیرونِ ملک سے چل رہے تھے۔ ان اکاؤنٹس نے گزشتہ 15 ماہ میں کم از کم 31 جھوٹے دعوے پھیلائے، جن میں ڈیموکریٹس پر کرپشن کے الزامات بھی شامل تھے۔
سینٹر فار انفارمیشن ریزیلینس کے تحقیقات کے ڈائریکٹر بینجمن اسٹرک نے تصدیق کی کہ کئی ایسے اکاؤنٹس جو خود کو ٹرمپ حامی امریکی خواتین ظاہر کرتے تھے، حقیقت میں جنوب مشرقی ایشیا — تھائی لینڈ اور میانمار — سے چل رہے تھے۔
انہوں نے کہا اس تبدیلی سے پہلے ہمیں ان اکاؤنٹس کے مقام کے بارے میں تقریباً کوئی معلومات نہیں ملتی تھیں۔
تنقید اور پرائیویسی خدشات
کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ فیچر جابرانہ ریاستوں میں کارکنوں یا مظاہرین کی شناخت ظاہر کر کے انہیں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
بیئر نے وضاحت کی کہ ایسے خطوں کے لیے پرائیویسی سیٹنگز موجود ہیں جہاں مقام ظاہر ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مقام کے بارے میں معلومات ہمیشہ درست نہیں ہو سکتیں، کیونکہ سفر، وی پی این یا عارضی رہائش نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔بیئر نے وعدہ کیا کہ جلد اپ ڈیٹ کے بعد درستگی “99.99%” تک پہنچ جائے گی۔
جعلی اکاؤنٹس ہٹا دیے گئے
فیچر لانچ ہونے کے فوراً بعد کچھ نمایاں جعلی اکاؤنٹس کو معطل کر دیا گیا۔ایک ایوانکا ٹرمپ فین اکاؤنٹ جس کے دس لاکھ فالوورز تھے نائجیریا سے چل رہا تھا اور پرو-ٹرمپ و اینٹی امیگریشن مواد پوسٹ کرتا تھا۔ صارفین کی نشاندہی پر اسے معطل کردیا گیا۔
ماہرین کا انتباہ: بڑا مسئلہ بے نقاب
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیچر ایک گہرا مسئلہ ظاہر کرتا ہے
ادائیگی لے کر سیاسی انتشار پھیلانے والے نیٹ ورکس۔
جارجیا ٹیک کی پروفیسر ایمی بروک مین نے کہا یہ سوشل میڈیا کے ایک بنیادی مسئلے کو بے نقاب کرتا ہے: لوگ پیسے لے کر حساس موضوعات میں جان بوجھ کر آگ بھڑکاتے ہیں، کیونکہ تنازع توجہ کھینچتا ہے۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایکس نے انفلوئنس آپریشنز سے نمٹنے والے انجینئرز کا نصف عملہ برطرف کر دیا ہے اور اب زیادہ تر انحصار اے آئی پر ہے۔
محققین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے روس، چین اور دیگر ممالک کے بیرونی اثر و رسوخ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، خصوصاً ایسے نیٹ ورکس جن کا مقصد غلط معلومات کے ذریعے کمائی کرنا ہے۔
نیا لوکیشن فیچر بظاہر شفافیت کی سمت ایک اہم قدم ہے، مگر ساتھ ہی عالمی سطح پر اثر و رسوخ اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس سے نمٹنے کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج بھی۔






