
امریکہ–ایران امن معاہدہ: اسلام آباد مذاکرات سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پُرامید
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے ساتھ امن معاہدہ ہونے کی امید ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مذاکرات سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو لبنان پر حملوں میں کمی کریں گے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے فون پر بات چیت میں حملے کم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، جس کے بعد لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ یہ عمل امن معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو “معقول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے کئی اہم نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی افواج نے کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ ترجمان کے مطابق اگر کہیں کوئی حملہ ہوا ہے تو وہ اسرائیل کی سازش ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کسی بھی کارروائی کا باقاعدہ اعلان کرتا ہے۔
ادھر امریکی فوج کے مرکزی کمان امریکی سینٹ کام کے ترجمان نے بیان دیا ہے کہ جنگ بندی کے تحت ایران کے خلاف کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران ایران کی بحریہ، دفاعی نظام اور ڈرون صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تقریباً تیرہ ہزار فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی افواج اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود اور مکمل طور پر الرٹ ہیں، اور علاقائی اتحادیوں کی مدد جاری رکھی جائے گی۔



