US citizens instructed to evacuate immediately, Washington warns citizens in the Middle East
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوم برگ کی خبر کے مطابق ایران کے ساتھ جاری عسکری کشیدگی کے تناظر میں دپارٹمنٹ آف سٹیٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ سیکیورٹی اپ ڈیٹ میں سنگین حفاظتی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کمرشل ذرائع سے فوری روانگی اختیار کریں۔ یہ پیغام قونصلر امور کی اسسٹنٹ سیکریٹری مورا نامدار کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا جب ریاض کے سفارتی علاقے میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق واقعے میں عمارت کو معمولی نقصان پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی، تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ عینی شاہدین نے دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی بھی اطلاع دی، جس سے سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے خطے میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے سے جاری فوجی کارروائی کے بعد محکمہ خارجہ نے اضافی عملہ اور وسائل تعینات کر دیے ہیں تاکہ شہریوں کو بروقت معلومات اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
روبیو نے امریکیوں کو اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں اندراج کرنے اور محکمہ خارجہ کے آفیشل چینلز سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف ہفتے کو شروع ہونے والی بمباری مہم جاری رہے گی۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے اتحاد نے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ وزیر خارجہ روبیو نے مزید کہا کہ اس مہم کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو غیر مؤثر بنانا ہے اور یہ ہدف زمینی افواج کے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں کارروائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔





