US admits Pakistan can become an effective and impartial mediator in global disputes
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ میں پالیسی حلقوں کی جانب سے پاکستان کے کردار کو نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں اسے عالمی تنازعات میں ایک مؤثر اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر ابھرتا ہوا ملک قرار دیا گیا ہے۔
امریکی رکن کانگریس ٹام سوزی نے کانگریشنل پاکستان کاکسس کے زیر اہتمام ایک ورچوئل بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، بڑی آبادی اور مختلف خطوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی بنیاد پر بین الاقوامی معاملات میں زیادہ فعال ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو انتہائی اہم غیر جانبدار فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے دونوں اطراف کے ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران سے متعلق بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکہ علاقائی ممالک کے ذریعے سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بھی فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی پیشکش کر چکا ہے۔
امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ متوازن رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کردار کیلئے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اسے ایک قابلِ اعتماد پل بناتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ فریقین چاہیں تو پاکستان ثالثی کیلئے تیار ہے اور اس عمل میں سہولت کار بننا اس کیلئے باعث اعزاز ہوگا۔
بریفنگ میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سکیورٹی سے آگے بڑھا کر تجارت اور سرمایہ کاری تک وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا۔ ٹام سوزی نے کہا کہ امریکی سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم سکیورٹی خدشات، پالیسی کے عدم تسلسل اور بیوروکریسی جیسے مسائل رکاوٹ بنتے ہیں۔
سفیر رضوان شیخ نے پاکستان کی نوجوان آبادی، کم لاگت پیداوار اور معدنی وسائل کو اہم مواقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پہلے ہی پاکستان کی برآمدات کیلئے سب سے بڑی منڈی ہے، جسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔





