Trump's stern warning on Iran, fears of a major war increase - diplomatic efforts also intensify
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف تازہ اور سخت بیانات کے بعد خطے میں وسیع جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، تاہم اسی دوران پاکستان سمیت مختلف ممالک کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر اس کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی کارروائی ایران کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
ان بیانات کے بعد امریکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 100 سے زائد بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔
کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایلیسا سلوٹکن نے کہا کہ ایسی کسی کارروائی سے جنگی قوانین متاثر ہوں گے، جبکہ چک شومر نے صدر کے بیانات پر سخت تنقید کی۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صدر کا انداز دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ سینیٹر جونی ارنسٹ کے مطابق یہ بیانات ممکنہ طور پر ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور ایران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔




