Trump's big action Attorney General Pam Bondi fired, Epstein files controversy worsens the matter
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق امریکی صدر نے اٹارنی جنرل پام بوندی کو عہدے سے ہٹا دیا، جس کے پیچھے ان کی کارکردگی پر بڑھتی ناراضی اور خاص طور پر جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کا تنازع بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کافی عرصے سے بونڈی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اور انہیں شکایت تھی کہ وہ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی میں مطلوبہ رفتار نہیں دکھا رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نے گزشتہ چند ماہ میں متعدد بار اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد بالآخر انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں بونڈی کو وفادار ساتھی قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ جلد نجی شعبے میں نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ دوسری جانب بونڈی نے اپنے پیغام میں کہا کہ صدر کے ساتھ ملک کو محفوظ بنانے کی کوششوں کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز رہا ہے اور وہ آئندہ ایک ماہ میں ذمہ داریاں منتقل کریں گی۔
ادھر ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا گیا ہے، جو ماضی میں ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی رہ چکے ہیں۔
بونڈی کے دور میں محکمہ انصاف کی خودمختاری پر بھی سوالات اٹھے اور ناقدین نے الزام لگایا کہ ادارہ وائٹ ہاؤس کے قریب ہو گیا۔ تاہم سب سے بڑا تنازع جیفری ایپسٹین کیس کی فائلوں پر سامنے آیا، جہاں بونڈی پر ریکارڈ کے اجرا میں شفافیت نہ برتنے کا الزام لگا۔
ابتدائی دستاویزات کے اجرا کے بعد جب مزید معلومات روک دی گئیں تو سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل آیا، جس کے بعد کانگریس نے قانون سازی کے ذریعے تقریباً 30 لاکھ صفحات جاری کروائے، لیکن اس کے باوجود تنازع ختم نہ ہو سکا۔




