Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • Top News
  • پاکستان

اس ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں، حاکمیت ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

fazal

اس ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں، حاکمیت ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، اس ملک آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے, یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، ہم اس نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہمارا یہ خیال تھا کہ 2024 کا الیکشن منصفانہ اور شفاف ہو گا لیکن ایک بار پھر ہماری خواہش، آرزو، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے فروغ کو جس طرح کچل دیا گیا ہے تو مجھے اب فکر اس بات کی ہے کہ اگر ایک الیکشن کے بعد مسلسل دوسرا الیکشن بھی متنازع ہو تو پھر پارلیمان کی اہمیت کیا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان جس کو ہم سپریم ادارہ کہتے ہیں، جس میں عوام کے براہ راست نمائندے بیٹھتے ہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی سے نمائندوں کو چنے گی تو پھر ظاہر ہے کہ وہ عوام کا نمائندہ نہیں ہو گا، ایسی پارلیمنٹ کی کیا اہمیت ہو گی جسے عوام اپنا نمائندہ تصور نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پارلیمنٹ میں بیٹھا ہو گا کہیں نہ کہیں سے کوئی انگلی اس کی طرف انگلی اٹھے گی کہ اس کو بھی تو ایجنسیوں اور اداروں نے پاس کیا ہے، یہ بھی تو اداروں کا بندہ ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے جس کو مخالف دیکھا اس کے خلاف کرپشن کے کیس کر دیے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو، وردیاں عزت نہیں دیا کرتیں بلکہ وردی کے اندر کردار کی عزت ہوتی ہے، کم از کم جمعیت علمائے اسلام اس کردار سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے علمبردار ہیں، ہمارے بزرگوں نے اس آئین پر دستخط کیے ہیں، اس آئین کے بانی ہیں اس لیے اس آئین کے تحفظ ہم اپنی ذمے داری تصور کرتے ہیں لیکن آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت جو ہمارے آئین کے تحت قرآن و سنت کے تابع ہے اور اکثریت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے منافی فیصلہ دے سکے، ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے، حاکمیت اعلیٰ تو اللہ رب العالمین کی ہے لیکن یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، کس طرح ہم اس نظام کے ساتھ چلیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے کہا کہ ہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے دوستوں کا احترام کرتے ہیں، ہم نے ساتھ مل کر تحریک چلائی ہے حالانکہ ہمارے کارکن سڑکوں پر ہوتے تھے اور ان پارٹیوں کے قائدین صرف کنٹینر پر ہوتے تھے اور تب بھی ہمیں قبول تھے اور میں آج ان سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ 2018 میں بھی آپ کا یہی مینڈیٹ تھا اور 2024 میں بھی آپ کا وہی مینڈیٹ ہے، کچھ سیٹیں اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، اسی مینڈیٹ کے ساتھ آپ نے اس وقت کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج کہتے ہیں کہ الیکشن ٹھیک ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا بھی تقریباً وہی مینڈیٹ ہے جو 2018 میں تھا، اس وقت آپ حکومت بنا رہے تھے تو الیکشن شفاف تھے، آج آپ حکومت نہیں بنا سکتے تو الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اس وقت موقف کچھ اور اس دفعہ کا موقف کچھ اور تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام ہے جس نے اس وقت دھاندلی ہوئی تو کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے اور ہم الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، جب پارلیمنٹ اہمیت کھو بیٹھے گی اور بظاہر ایک بنی بنائی پارلیمنٹ ہو جو عوام کی منتخب نظر نہ آئے اور اس پر تحفظات ہوں تو سوچنا تو جائز ہے ناں کہ ہم آئندہ کے لیے سیاست کا حصہ بنیں یا نہ بنیں، پھر ہم پارلیمانی سیاست کریں یا نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور مسلم لیگ(ن) شامل ہو یا مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہو تو پیپلز پارٹی شامل ہو، یہ روز ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے رہیں گے، حکمران ہر وقت اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھے گا کہ کہیں سرک تو نہیں گئے، آئے روز اس کے اپنے ہی حلیف اور شریک حکومت کے مطالبات آتے رہیں گے اور وہ پورے کرسکیں یا نہیں کر سکیں گے کچھ معلوم نہیں، ظاہر ہے دیوار کے پیچھے کچھ خفیہ قوتیں ہوں گی اور وہیں ان کو چلائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج ملکی دفاع کی صلاحیت رکھے، بیرونی دشمن تو دور کی بات ہم تو 20سال سے ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ کو دیکھ رہے ہیں، دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور ان کی جنگ ختم نہیں ہو رہی، عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے اور یہ پتا نہیں کیا کھیل، کھیل رہے ہیں۔

جے یو آئی(ف) کے سربراہ نے کہا کہ میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ میں دفاعی قوت پر تنقید نہیں کررہا ہوں لیکن میری دفاعی قوت سیاسی قوت بن گئی ہے تو سیاسی قوت پر تنقید کرنا میرا حق بنتا ہے، وہ دفاعی قوت رہیں گے تو سر کا تاج ہیں۔

Tags: اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ جمعیت علمائے اسلام(ف) جمہوریت مولانا فضل الرحمٰن

Post navigation

Previous: انٹراپارٹی الیکشن :بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر علی ظفر کو پارٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کردیا
Next: پاکستان نے آذربائیجان کے ساتھ جنگی طیاروں کی فروخت کا سب سے بڑا معاہدہ کر لیا

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

یہ بھی پڑہیے

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

PSL opening ceremony canceled, matches will be held without fans: Mohsin Naqvi-PCB
  • کھیل

پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب منسوخ، میچز بغیر شائقین کے ہوں گے: محسن نقوی

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

Calendar

March 2026
MTWTFSS
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031 
« Feb    

Top News

Global energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy crisis Work from home and reduce air travel, IEA's emergency recommendationsGlobal energy cr
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

عالمی توانائی بحران: گھر سے کام کریں اور فضائی سفر کم کریں، آیٔ ای اے کی ہنگامی تجاویز

Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
  • Top News
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کیلئے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا بڑا خطرہ

The risk of war in the Gulf has increased Iran's zero-restraint threat, America's $16 billion arms package
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

خلیج میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ایران کی زیرو ریسٹرینٹ دھمکی، امریکا کا 16 ارب ڈالر اسلحہ پیکج

US-Israeli attack, Iranian military spokesman martyred, Iran's powerful response, claims to have targeted the latest F-35
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

امریکا-اسرائیل حملہ، ایرانی فوجی ترجمان شہید،ایران کا طاقتور جواب،جدید ایف-35 نشانہ بنانے کا دعویٰ

Iranian attacks affect 17% of Qatar's LNG capacity, costing billions of dollars, putting global supply at risk
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایرانی حملوں سے قطر کی 17٪ ایل این جی صلاحیت متاثر، اربوں ڈالر کا نقصان، عالمی سپلائی خطرے میں

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.