Target list or false intelligence Attack on Iranian school raises new questions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق ایران میں جاری جنگی کشیدگی کے دوران ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع ایک لڑکیوں کے اسکول کی عمارت میزائل حملے میں تباہ ہو گئی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلبہ اور عملہ متاثر ہوا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متاثر ہونے والا ادارہ ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول تھا جس کے بارے میں بعد میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اسے ممکنہ طور پر فوجی ہدف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ہدف کی نشاندہی میں استعمال ہونے والے انٹیلیجنس ڈیٹا میں اس مقام کو ایک عسکری تنصیب سے منسلک قرار دیا گیا تھا۔
تحقیقات سے واقف ذرائع کے مطابق اس ٹارگٹ لسٹ کی تیاری میں جدید ڈیٹا اینالیسس اور خودکار سسٹمز کا استعمال بھی کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ جنگی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھمز پر انحصار کس حد تک محفوظ ہے۔
ایرانی حکام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شہری آبادی پر حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔



