Saudi Arabia's historic decision approval of a modern airport in Mecca
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) البوانبہ کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں پہلے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جسے اسلامی دنیا کے مقدس ترین شہر کی جدید انفراسٹرکچر کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان رائل کمیشن برائے مکہ سٹی و مشاعر مقدسہ کے سی ای او صالح الرشید نے کیا، جن کے مطابق منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں جبکہ اس کے اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری کے خدوخال کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو عالمی معیار کے مطابق نجی شعبے کے اشتراک سے مکمل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق مجوزہ ایئرپورٹ نہ صرف مکہ مکرمہ کے رہائشیوں بلکہ ہر سال آنے والے لاکھوں حجاج اور عمرہ زائرین کو سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس کا آپریشن قریبی کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ساتھ متوازن رکھا جائے گا، جو اس وقت زائرین کی بڑی تعداد کو سنبھال رہا ہے۔
فی الحال بیشتر حجاج اور عمرہ زائرین جدہ کے راستے مکہ پہنچتے ہیں، جو تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ رش کے اوقات میں یہ سفر 90 منٹ یا اس سے زیادہ وقت لے لیتا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کا دباؤ بڑھتا ہے بلکہ زائرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نئے ایئرپورٹ کی تکمیل کے بعد سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہونے، شاہراہوں پر رش میں کمی آنے اور جدہ ایئرپورٹ پر بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زائرین کو عبادات جیسے طواف، سعی اور نماز کے لیے زیادہ وقت میسر آ سکے گا، خاص طور پر رمضان اور حج کے دوران جب رش عروج پر ہوتا ہے۔
یہ منصوبہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد زائرین کے تجربے کو بہتر بنانا اور جدید سہولیات فراہم کرنا ہے، جبکہ مکہ مکرمہ کی روحانی حیثیت کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔





