Relief for 3,000 Pakistanis in Spain Government launches major plan to legalize them
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک دی نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے اسپین میں مقیم تین ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قانونی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے عملی اور تیز رفتار اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں اسپین میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو رہائشی کارڈ کے حصول میں درپیش مشکلات کم کرنے اور دستاویزی عمل کو سادہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر برائے سمندر پار پاکستانی سالک حسین نے کی۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چعدھری ، قومی شناختی ادارہ، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، پاسپورٹ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے متعدد ضلعی تصدیقی دستاویزات کی شرط ختم کر دی گئی۔ اب ایک متحدہ قومی کردار سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا جو صرف نیشنل پولیس بیورو کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے سرکاری پیچیدگیاں کم ہوں گی اور درخواست گزاروں کو غیر ضروری تاخیر سے نجات ملے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تصدیقی عمل کو شفاف اور کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران اسپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد نے موجودہ قانونی طریقۂ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ نئی پالیسی کے تحت اہل درخواست گزاروں کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے رہائشی کارڈ جاری کیا جائے گا۔ سات سے آٹھ سال تک مسلسل قانونی رہائش مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش اور بعد ازاں شہریت کے لیے درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا، جو مقامی قوانین کے مطابق ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ سہولت ان افراد کے لیے مخصوص ہے جو قانونی طور پر ملازمت اور رہائش کی اجازت چاہتے ہیں، جبکہ سیاسی پناہ کے درخواست گزار اس پالیسی میں شامل نہیں ہوں گے۔
وزارت خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسلام آباد اور میڈرڈ کے درمیان سفارتی رابطوں کو مؤثر رکھا جائے گا تاکہ درخواست گزاروں کو کسی مرحلے پر دشواری پیش نہ آئے۔
وزیر برائے سمندر پار پاکستانی سالک حسین نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں پاکستانیوں کو قانونی حیثیت ملنے سے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوگا اور ان کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔




