Petrol 458 and diesel 520 rupees per liter, government's big decision - subsidy ends, targeted relief package announced
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کرتے ہوئے عمومی سبسڈی ختم کر دی ہے، تاہم عوامی دباؤ کم کرنے کے لیے ہدفی ریلیف پیکج بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔
نئے نرخوں کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اضافہ کر کے اسے 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 184 روپے 49 پیسے اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34 روپے 8 پیسے اضافہ کر کے 457 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول پر پٹرولیم لیوی بڑھا کر 160 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیزل پر لیوی ختم کر دی گئی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ بتایا کہ یہ فیصلے اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم رکھنا اور سبسڈی کو صرف مستحق طبقات تک محدود کرنا ہے۔
حکومت نے ریلیف اقدامات کے تحت موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان کیا ہے، جو ماہانہ 20 لیٹر تک محدود ہوگی۔ چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے امداد دی جائے گی، جبکہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ کرایوں میں بے قابو اضافہ نہ ہو۔
مزید برآں، توانائی بچانے کے لیے مارکیٹوں کی جلد بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے تقریباً 1200 میگاواٹ بجلی کی بچت متوقع ہے۔ اس حوالے سے حتمی اوقات کار کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 80 سے 90 فیصد تک اضافے نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے شدید مالی دباؤ پیدا کر دیا ہے، اسی لیے مشکل مگر ناگزیر فیصلے کیے گئے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ حکومت آیٔ ایم ایف پروگرام میں لچک حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے تاکہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف دیا جا سکے۔




