Pakistan-China joint marine research begins, PNS Bahr Masah departs on mission
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بناتے ہوئے پاکستانی سمندری حدود میں پاکستان۔چین مشترکہ اوشیانوگرافک ریسرچ کروز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سائنسی مشن کی سہولت پاکستان نیوی اپنے نیشنل ہائیڈروگرافک آفس (این ایچ او) کے ذریعے فراہم کر رہی ہے۔
پاکستان نیوی کے مطابق اس مشترکہ تحقیقی مہم کے لیے پی این ایس بحر مساح کو تعینات کیا گیا ہے، جو ایک جدید ہائیڈروگرافک سروے شپ ہے اور اوشیانوگرافک اور جیو فزیکل سرویز انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تحقیق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی) اور چین کے سیکنڈ انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔
نیوی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نیوی سمندری شعور کے فروغ اور ملک میں میرین سائنسی تحقیق کی مکمل سہولت کاری کے لیے پرعزم ہے۔

مشترکہ اوشیانوگرافک کروز کا مقصد پاکستانی سمندری حدود میں بحری ماحول، ساحلی اور آف شور ایکو سسٹم اور جیو فزیکل حالات کی بہتر تفہیم حاصل کرنا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج سے سمندری ماحولیاتی رجحانات، موسمی اثرات اور ساحلی حرکیات کا درست اندازہ ممکن ہو سکے گا، جو مستقبل میں بحری منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوں گے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کے مطابق پاکستان۔چین مشترکہ سمندری ماحول اور ایکو سسٹم ریسرچ سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب 12 دسمبر 2025 کو چین کے شہر ہانگزو میں منعقد ہوئی تھی۔ معاہدے کے تحت پاکستان کے ساحلی علاقوں میں چاروں موسموں کے دوران سمندری ماحول اور ایکو سسٹم سے متعلق ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت پاکستانی سائنسدانوں کو چین کی جدید لیبارٹریز میں سمندری نمونوں کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی حاصل ہو گا، جبکہ انہیں جدید اوشیانوگرافک آلات کے استعمال، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقہ کار اور بعد از تحقیق لیبارٹری تجزیے کی عملی تربیت دی جائے گی۔



