New strategy of militants in Balochistan female suicide bombers and modern weapons
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے خواتین کو خودکش حملوں میں استعمال کرنے اور ان کی تصاویر و تعارف سوشل میڈیا پر پھیلانے کی حکمتِ عملی تیز کر دی ہے، جسے حکام اور تجزیہ کار شورش کی پروپیگنڈا مہم اور بھرتی بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بی ایل اے نے یاسما بلوچ اور ان کے شوہر وسیم کی ایک تصویر جاری کی جس میں دونوں فوجی طرز کے لباس میں، کندھوں پر رائفلیں لٹکائے مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔ گروہ کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں نے خودکش دھماکوں کے ذریعے “آخری مشن” مکمل کیا۔ رائٹرز نے بتایا کہ وہ ان تصاویر اور بائیوگرافیز کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا مقصد شورش کی اپیل کو وسیع حلقوں تک پہنچانا ہے۔
طلال چوہدری نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ خواتین کی شمولیت شدت پسندوں کی رسائی اور مقبولیت بڑھاتی ہے اور اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ لڑائی گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے آن لائن بھرتی کے معاملے پر متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رابطہ بھی کیا ہے۔ بی ایل اے کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست پر جواب نہیں دیا۔
حکام کے مطابق جنوری میں بی ایل اے کی مربوط کارروائیوں میں چھ خواتین شریک تھیں جن میں تین خودکش بمبار شامل تھیں۔ کمشنر حمزہ شفقات کے مطابق ان حملوں میں 58 افراد ہلاک ہوئے اور صوبے میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 2022 میں پہلی خاتون خودکش حملہ آور سامنے آنے کے بعد مجموعی طور پر پانچ خواتین خودکش بمباروں کا ریکارڈ موجود ہے، جبکہ گزشتہ چند ماہ میں تین مزید خواتین کو انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں گرفتار بھی کیا گیا۔
اے سی ایل ای ڈی کی سینئر تجزیہ کار پرل پانڈیا کے مطابق خواتین کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ شورش کی حمایت اب صرف مردوں کے زیرِ اثر قبائلی حلقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات تک پھیل رہی ہے۔ سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے محقق عبدالباسط نے بی ایل اے کو جنوبی ایشیا کا سب سے منظم اور مہلک گروہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرونز کے ذریعے سکیورٹی کمزوریاں تلاش کرتا رہا ہے اور فروری 2025 میں 400 سے زائد مسافروں والی ٹرین کے اغوا کے دوران سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے پاس افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑے گئے ہتھیار بھی پہنچ رہے ہیں۔ فوج کے مطابق جون 2025 تک 272 امریکی ساختہ رائفلیں اور 33 نائٹ وژن ڈیوائسز برآمد کی جا چکی تھیں، جبکہ جنوری کے حملوں کے بعد بھی ایم-16 اور ایم-4 رائفلوں سمیت متعدد ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔ تاہم رائٹرز کے مطابق فوری طور پر یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ حملوں میں استعمال ہونے والا جدید اسلحہ امریکی ساختہ تھا یا کسی اور ذریعے سے آیا۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کی دسمبر میں تیار کردہ رپورٹ کے مطابق خواتین مختلف سماجی و معاشی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض کی یونیورسٹی سطح تک تعلیم بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ خواتین کی بڑھتی شمولیت دہشت گردانہ حکمتِ عملی میں خطرناک تبدیلی ہے، جس کے پیچھے آن لائن انتہا پسندی، نفسیاتی دباؤ اور کمزور افراد کا استحصال جیسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔





