
پنجاب: 6 ماہ میں بچوں پر تشدد کے 4,150 کیس، 717 جنسی استحصال کے واقعات،ایک بھی سزا نہیں:رپورٹ
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں رواں سال 2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں پر تشدد اور استحصال کے 4,150 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے جاری کیے ہیں۔
این جی او کے مطابق پنجاب میں روزانہ اوسطاً 23 کیسز بچوں پر تشدد کے رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ فیکٹ شیٹ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت اضلاع کی سطح پر پولیس سے حاصل کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے۔
ایس ایس ڈی او (سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن) کی رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2025 کے دوران بچوں سے متعلق 4,150 فوجداری کیس رجسٹر ہوئے ۔
ان میں سے 3,989 کیس اگلے مرحلے (چالان) تک پہنچے جبکہ 3,791 کیس اب بھی زیرِ سماعت ہیں ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پنجاب میں رپورٹنگ کے نظام بہتر ہوئے ہیں جس سے کیسز کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے، تاہم سزاؤں کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک کم ہے۔
سنگین نوعیت کے حوالے سے چھ ماہ کے اس عرصے میں صرف 12 سزائیں سنائی گئیں۔اس کیٹیگری میں 12 مقدمات میں بریت اور 8 کیس واپس لے لیے گئے، مگر کوئی سزا نہیں ہوئی۔
بچوں سے بھیک منگوانا سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم رہا، کل 2,693 کیسز درج ہوئے۔ان میں سے 2,674 چالان ہوئے، 2,669 اب بھی زیر سماعت ہیں، اور کسی ایک کیس میں بھی سزا نہیں ہوئی۔
دیگر اقسام کے استحصال بھی سنگین نوعیت کے ہیں۔چائلڈ ٹریفکنگ (اسمگلنگ) کے 332 کیس درج ہوئے جن میں صرف 4 سزائیں ہوئیں۔
چائلڈ لیبر کے 182 کیس درج ہوئے جن میں 8 سزائیں سنائی گئیں، جو دیگر کیٹیگریز میں نسبتاً زیادہ ہے مگر مجموعی تعداد کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
جسمانی زیادتی کے 87 کیس اور اغوا کے 27 کیس رپورٹ ہوئے مگر کسی میں بھی سزا نہیں ہوئی۔ بچوں کی شادی کے کیسز انتہائی کم رپورٹ ہوتے ہیں چھ ماہ میں صرف 12 کیس درج ہوئے اور نہ کوئی سزا ہوئی اور نہ ہی بریت، جو ثقافتی رکاوٹوں اور قانونی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
اضلاع کی سطح پر لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ کو بچوں پر تشدد، استحصال اور اسمگلنگ کے بڑے مراکز کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
لاہور میں جنسی استحصال، بھیک منگوانے اور ٹریفکنگ کے سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جبکہ ننکانہ صاحب، گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں بھی ٹریفکنگ کے رجحانات بلند رہے۔
مجموعی طور پر رپورٹ پنجاب کے بچے تحفظ کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے سزاؤں کی انتہائی کم شرح، ہزاروں زیرِ سماعت مقدمات اور حساس جرائم کی مستقل کم رپورٹنگ۔
ایس ایس ڈی او نے فوری اصلاحات پر زور دیا ہے جن میں شامل ہیں۔تفتیشی صلاحیت میں اضافہ، مقدمات کے تیز رفتار ٹرائل اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری،چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کا پھیلاؤ اور کمیونٹی سطح پر رپورٹنگ بڑھانے کے لیے آگاہی مہمات
تنظیم نے زور دیا کہ پنجاب کے بچوں کا تحفظ حکومت اور معاشرے کے مشترکہ کردار کے بغیر ممکن نہیں ایک ایسا نظام جس میں ہر بچے کے تحفظ، انصاف اور طویل المدتی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔






