Joint military exercises and major agreements, accelerating Pak-US defense ties
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک بار پھر نمایاں پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں، ایف۔16 لڑاکا طیاروں کے لیے بڑے اپ گریڈ معاہدے اور واشنگٹن کی جانب سے مسلسل مثبت سیاسی بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کئی برسوں کی سردمہری کے بعد ایک نئے، زیادہ حقیقت پسندانہ مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی اور پاکستانی افواج نے خیبرپختونخوا کے علاقے پبی میں واقع نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں “انسپائرڈ گیمبٹ” کے نام سے مشترکہ تربیتی مشق مکمل کی۔ اس مشق میں مشترکہ انفنٹری جنگی مہارتوں، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز اور جدید میدانِ جنگ میں آپریشنل ہم آہنگی بڑھانے پر توجہ دی گئی۔ سینٹکام کے مطابق ایسی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دفاعی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اسی تسلسل میں امریکا نے دسمبر 2025 میں پاکستان کے ایف۔16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، اسپیئر پارٹس اور اپ گریڈ پیکجز کی فروخت کی منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 686 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت 70 سے 80 ایف۔16 طیارے آپریٹ کر رہا ہے، جن میں اپ گریڈ شدہ بلاک-15، سابقہ اردنی طیارے اور جدید بلاک-52 پلس ماڈلز شامل ہیں۔ امریکی حکام طویل عرصے سے ایف۔16 پروگرام کو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کی بنیاد قرار دیتے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین اور کینیڈا کے تعلقات میں بڑی بحالی، آٹھ سال بعد تاریخی تجارتی معاہدہ
سیاسی سطح پر بھی واشنگٹن کا لہجہ غیرمعمولی طور پر مثبت دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کھلے عام تعریف کر چکے ہیں۔ جون 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان نے بھی امریکا کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو محدود مگر مؤثر دائرے میں وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی، تربیت اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم حالیہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ اسلام آباد اور واشنگٹن اب نظریاتی اختلافات کے بجائے عملی مفادات کی بنیاد پر دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔





