Israel's new attacks on Iran, Trump claims Tehran is ready for a deal, Iran denies
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر تازہ حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان سمیت مرکزی علاقے شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی جوابی حملے کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل داغے، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور یروشلم میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
صدر ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ایران پس پردہ مذاکرات کر رہا ہے اور معاہدہ چاہتا ہے، لیکن داخلی دباؤ کے باعث اس کا کھل کر اظہار نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ایران کو اپنے عوام اور امریکہ دونوں کا خوف لاحق ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس اراغچی نے واضح کیا کہ تہران کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں اور جنگ کا خاتمہ اپنی شرائط پر چاہتا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے جسے پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، تاہم ایرانی حکام نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور اہم سمندری راستوں سے متعلق نکات شامل تھے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود ایرانی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس سپلائی اس راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔




