Iran's latest missile attack, Trump's claims of negotiations rejected - tensions in the Middle East escalate again
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کے نئے حملے کیے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو تہران نے مسترد کرتے ہوئے انہیں جعلی خبریں قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے باعث تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ بعض مقامات پر میزائلوں کے ملبے سے عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک اہم جوہری تنصیب موجود ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی نطنز میں اس کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے ایران کے توانائی نظام پر ممکنہ حملہ پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں وقتی بہتری آئی اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں۔
تاہم ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور ایسی اطلاعات مالیاتی و تیل کی منڈیوں پر اثرانداز ہونے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکی بیانات کو نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔
ادھر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ براہِ راست مذاکرات کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم مصر، پاکستان اور خلیجی ممالک کے ذریعے رابطے جاری ہیں، اور ممکنہ طور پر آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو کسی ممکنہ معاہدے پر غور کیا جا سکتا ہے۔




