Historic trade agreement between India and the European Union paves the way for free trade
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین نے تقریباً بیس سالہ طویل مذاکرات کے بعد ایک اہم اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کے 1.4 ارب عوام اور یورپ کے لاکھوں شہریوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ “کل یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ایک بڑا معاہدہ طے پایا، جسے دنیا بھر میں ’مدر آف آل ڈیلز‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ سمجھوتا دونوں خطوں کے عوام کے لیے بے شمار امکانات لے کر آئے گا۔” ان کے مطابق معاہدے کی تفصیلات نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سربراہی اجلاس کے دوران مشترکہ طور پر جاری کی جائیں گی، جہاں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لیین بھی شریک ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر اب تک محتاط مارکیٹ کو یورپی یونین کے 27 ممالک کے لیے مرحلہ وار آزاد تجارت کے لیے کھول دے گا۔ اس اقدام سے دوطرفہ سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک مالی سال کے دوران بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا، جو اس شراکت داری کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ آٹوموبائل، دواسازی، ٹیکنالوجی اور گرین انرجی جیسے اہم شعبوں میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل قانونی جانچ پڑتال کی جائے گی، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ یہ معاہدہ ایک سال کے اندر نافذ العمل ہو جائے گا۔





