Great news for solar consumers, full electricity credit restored, controversial order revoked
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کی جانب سے جاری اس متنازع ہدایت کو واپس لے لیا ہے، جس کے تحت نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو قومی گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کا کریڈٹ روک دیا گیا تھا۔
پاور ڈویژن کے مطابق وزیر توانائی نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کا کریڈٹ بند کیے جانے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے اس فیصلے کو معطل کر دیا اور ہدایت جاری کی کہ صارفین کو ان کا جائز حق بلا کسی تاخیر کے بحال کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے شکایت کی تھی کہ بعض نیٹ میٹرنگ صارفین نے مقررہ قواعد کے برخلاف اجازت شدہ حد سے زیادہ صلاحیت کے سولر سسٹمز نصب کر رکھے ہیں۔ قواعد کے مطابق صارفین اپنی منظور شدہ بجلی کی لوڈ گنجائش کے 150 فیصد تک سولر پیداوار کی اجازت رکھتے ہیں، تاہم اس حد سے تجاوز پر اضافی یونٹس کا کریڈٹ نہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔
تاہم پی پی ایم سی کی ہدایت پر عملدرآمد کے دوران متعدد صارفین کے تمام ایکسپورٹ شدہ یونٹس کا کریڈٹ روک دیا گیا، جس سے خاص طور پر لاہور میں شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں ابتدائی بلنگ سائیکل میں ہی بڑی تعداد میں صارفین متاثر ہوئے۔
بڑھتی ہوئی شکایات اور حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی پر تنقید کے بعد وزیر توانائی نے مداخلت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جن صارفین کے بل پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، ان کی درستگی آئندہ بل میں کی جائے جبکہ باقی صارفین کے بل درست بنیادوں پر جاری کیے جائیں۔ مزید یہ کہ صرف وہ اضافی یونٹس جو منظور شدہ حد سے تجاوز کریں گے، انہیں ہی کریڈٹ سے خارج کیا جائے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق جن صارفین کو گزشتہ بلوں میں نیٹ میٹرنگ کا فائدہ نہیں دیا گیا، انہیں آئندہ بل میں مکمل ایڈجسٹمنٹ فراہم کی جائے گی، جبکہ قومی گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کے منظور شدہ یونٹس کا کریڈٹ معمول کے مطابق بحال کر دیا گیا ہے۔



