Fears of national tragedy: Horrific fire in Karachi's Gul Plaza: Death toll rises to 14, more than 70 missing
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق شہر کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی ہے، جبکہ 70 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ریسکیو ادارے ملبے میں دبے ممکنہ متاثرین کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ ہفتے کی شب پیش آیا، جب گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ آگ پر قابو پانے میں فائر بریگیڈ کو 24 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، جس کے بعد اتوار کو سرچ اور ریکوری آپریشن شروع کیا گیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجہ کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔
ساؤتھ زون کے ڈی آئی جی سید اسد رضا نے بتایا کہ اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک ریسکیو اہلکاروں نے مزید آٹھ لاشیں نکالیں، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 14 ہو گئی۔ ان کے مطابق فائر فائٹنگ کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ کے ایم سی، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن اور پاک بحریہ کے اہلکار ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق اب تک پانچ لاشیں سول اسپتال کراچی منتقل کی جا چکی ہیں، جہاں شناخت کا عمل جاری ہے۔ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ 70 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور یہ واقعہ اب ایک بڑے قومی سانحے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے ایک حاملہ خاتون کے عمارت میں پھنسے ہونے کی اطلاعات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ اس وقت اولین ترجیح قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ہے۔ انہوں نے متاثرہ تاجروں کو ریلیف اور مارکیٹ کی بحالی کے لیے اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔
سندھ حکومت نے لاپتا افراد کی معلومات اور عوامی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائنز قائم کر دی ہیں، کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق ریسکیو اور بحالی کاموں کے باعث ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر سے گارڈن چوک تک کا حصہ بند ہے، جبکہ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عالمی سطح پر بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر اور جرمن قونصل خانہ کراچی نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کے بعد تاجروں اور علاقہ مکینوں کی جانب سے فائر بریگیڈ کی کارروائی میں تاخیر، پانی کی قلت اور محدود وسائل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔





