Explosions from Tehran to Beirut, Iran attacks Tel Aviv, fears of further escalation of war
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ساتویں روز بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور ایران کے دارالحکومت تہران میں وسیع فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں تل ابیب کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق بیروت کے جنوبی علاقوں میں رات بھر 26 فضائی حملے کیے گئے جن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے دوران بیروت کے جنوبی مضافات میں متعدد دھماکوں اور آگ کے شعلوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ تل ابیب کی جانب خیبر میزائل داغے گئے ہیں جو اس کے جاری فوجی آپریشن ٹرو پرومس 4 کی 21ویں لہر کا حصہ ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں میزائلوں کے ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا ۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی افواج نے اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ایئر بیس اور ایک ریڈار تنصیب کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ کویت اور عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسی دوران قطر کے حکام نے بتایا کہ ایک ایرانی ڈرون نے خلیج میں واقع امریکی اڈے العدید ایئربیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم اسے راستے میں روک لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اس ہفتے اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 123 افراد ہلاک اور 683 زخمی ہو چکے ہیں
ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ مزید سخت ردعمل دے گا اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے پر غور کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔
ادھر آذربائیجان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی ڈرون اس کی سرحد عبور کر کے علاقے نخچیوان میں گرے جس سے چار افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد باکو حکومت نے ممکنہ جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔



