Death of young nurse in ICE operation Parents' allegations, outrage across America
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آیٔ سی ای) اور بارڈر پٹرول ایجنٹس کی ایک کارروائی کے دوران 37 سالہ امریکی نرس الیکس جیفری پریٹی کی ہلاکت نے ملک بھر میں شدید غم و غصے اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مقتول کے والدین نے واقعے کی سرکاری وضاحت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیٹا غیر مسلح تھا اور ایک خاتون کو بچانے کی کوشش کے دوران جان سے گیا۔
الیکس کے والد مائیکل پریٹی اور والدہ سوسن پریٹی کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آئی سی ای اہلکار ایک خاتون کو حراست میں لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران الیکس نے انسانی ہمدردی کے تحت مداخلت کرتے ہوئے خاتون کو تحفظ دینے کی کوشش کی، تاہم اہلکاروں نے طاقت کا استعمال کیا، مرچوں کا اسپرے کیا اور دونوں کو زمین پر گرا دیا، جس کے نتیجے میں الیکس شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں دم توڑ گیا۔
والدین نے اپنے جذباتی بیان میں کہا، “ہم ٹوٹ چکے ہیں مگر اس کے ساتھ شدید غصے میں بھی ہیں۔ ہمارا بیٹا ایک نیک دل انسان تھا جو اپنے خاندان، دوستوں اور خاص طور پر امریکی فوجی سابقہ اہلکاروں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا تھا۔ وہ منی ایپولس کے وی اے ہسپتال میں آئی سی یو نرس کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا اور مریضوں کی دیکھ بھال میں بے مثال جذبہ رکھتا تھا۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستیاب ویڈیو شواہد واضح کرتے ہیں کہ الیکس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں موبائل فون جبکہ بایاں ہاتھ خالی اور سر سے اوپر اٹھا ہوا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی قسم کی مزاحمت یا جارحیت نہیں کر رہا تھا۔ والدین کے مطابق، اس کے باوجود حکام نے واقعے کے بعد اسے مسلح ظاہر کرنے کی کوشش کی، جو حقائق کے منافی ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا کہ الیکس اہلکاروں کی طرف ہتھیار لے کر بڑھا اور مزاحمت کی، تاہم بعد میں سامنے آنے والی ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات نے اس مؤقف کو شدید شکوک و شبہات کی زد میں ڈال دیا ہے۔ منی ایپولس کے پولیس چیف برائن اوہارا نے بھی تصدیق کی ہے کہ الیکس ایک قانونی اسلحہ لائسنس رکھنے والا شہری تھا اور اس کا کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
واقعے پر امریکی طبی برادری کی جانب سے بھی شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ منی ایپولس وی اے ہسپتال کے عملے اور نرسز ایسوسی ایشن نے الیکس کو ایک فرض شناس اور ہمدرد طبی کارکن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کئی ساتھیوں نے سوشل میڈیا پر اسے ایک مثالی نرس اور انسان دوست شہری کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں طاقت کے استعمال کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جو شہری آزادیوں اور انسانی جان کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔






