Big battle in Iranian airspace Iran claims to have shot down US warplane and helicopter
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے امریکی جنگی طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے، جس کے بعد جاری تنازع میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نشانہ بننے والوں میں ایف-15ای اسٹرائیک ایگل، اے-10سی تھنڈربولٹ ٹو اور یو ایچ 60 بلیک ہاک شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایف-15ای اسٹرائیک ایگل کے دو رکنی عملے میں سے ایک کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں اہلکار ایجیکشن کے ذریعے طیارے سے باہر نکلے تھے، تاہم ریسکیو آپریشن کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ایک الگ کارروائی میں اے-10سی تھنڈربولٹ ٹو کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ مزید یہ کہ ایک یو ایچ 60 بلیک ہاک کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ لاپتہ عملے کی تلاش میں مصروف تھا۔

امریکی محکمہ دفاع اور سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کو صورتحال پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق دشمن کے علاقے میں کسی امریکی پائلٹ کی موجودگی ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف اس کی بحفاظت واپسی ضروری ہے تو دوسری جانب ریسکیو آپریشن بھی خطرات سے بھرپور ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران اب بھی میزائل اور ڈرون صلاحیت کا بڑا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ اب تک اس کے میزائل ذخیرے کے صرف ایک حصے کو ہی مؤثر طور پر نشانہ بنا سکا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو امریکی عملے کے افراد نظر آئیں تو فوری اطلاع دیں، جبکہ سوشل میڈیا پر طیاروں کے ملبے کی مبینہ تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں۔



