اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ روڈ میپ سامنے آگیا ہے جس میں بعض حساس معاملات پر دونوں فریقوں نے مختلف انداز میں مؤقف پیش کیا ہے۔
دونوں مسودوں میں بنیادی طور پر جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات، منجمد اثاثوں کی واپسی اور ایران کی معاشی بحالی جیسے اہم نکات پر نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط کے بعد یہ باضابطہ حیثیت اختیار کر چکا ہے اور بعض عملی اقدامات پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے، جن میں بحری نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔
مسودوں کے مطابق فریقین فوری اور مستقل جنگ بندی کے پابند ہوں گے اور آئندہ کسی بھی قسم کی طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کیا جائے گا۔ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کے اندر مذاکرات مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔
لبنان کے معاملے پر دونوں متن میں ذکر موجود ہے تاہم ایرانی مسودے میں اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جبکہ امریکی متن اسے عمومی جنگ بندی کے تناظر میں بیان کرتا ہے۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ دونوں ممالک افزودہ یورینیم اور جوہری سرگرمیوں پر مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم ایران کے مطابق دفاعی اور میزائل پروگرام ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔
معاہدے میں ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے امکانات پر بھی بات کی گئی ہے، جس کی مالیت 300 ارب ڈالر تک بتائی گئی ہے، تاہم اس کی تفصیلات آئندہ مذاکرات میں طے ہوں گی۔
دونوں مسودوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اعتماد سازی کے لیے بعض اقدامات حتمی معاہدے سے قبل ہی شروع کیے جائیں گے، جن میں جنگ بندی، بحری تجارت اور مالی معاملات میں نرمی شامل ہے۔

