Modi's visit to Netherlands Questions on press freedom and minorities spark diplomatic debate
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران ایک پریس بریفنگ میں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب ڈچ صحافیوں نے بھارت میں پریس فریڈم اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری سِبی جارج نے سوالات کے جواب میں کہا کہ یہ خدشات سمجھ کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی 1.4 ارب آبادی، 900 ملین اسمارٹ فون صارفین اور بڑے انتخابی ٹرن آؤٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے زندہ اور شور شرابے والی جمہوریت قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کی آبادی آزادی کے بعد 11 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے اور ملک میں تاریخی طور پر مختلف مذاہب کو جگہ ملی ہے۔
اس دوران ڈچ اخبار کے صحافی نے سوال کیا کہ نیدرلینڈز اور یورپی یونین بھارت میں پریس فریڈم اور اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش رکھتے ہیں اور حکومت اس پر کیا مؤقف رکھتی ہے۔
اس پر بھارتی سفارتکار نے جواب دیا کہ یہ سوال بھارت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔
بعد ازاں ڈچ اخبار این آر سی کی صحافی نے وضاحت کی کہ یہ خدشات انفرادی نہیں بلکہ خود نیدرلینڈز کے وزیراعظم کے بیان کا حوالہ ہیں، جنہوں نے بھارت میں اقلیتوں اور پریس فریڈم پر تشویش ظاہر کی تھی۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا بھارتی حکومت کو میزبان ملک کے وزیراعظم کے اس مؤقف پر اعتراض ہے۔
اس پر بھارتی نمائندے نے کہا کہ انہیں اس بیان کی تفصیل معلوم نہیں، اور وہ صرف عمومی سوال کا جواب دے رہے ہیں، ساتھ ہی بھارت کو ایک متنوع اور مضبوط جمہوریت قرار دیا۔




