New twist on Hormuz crisis, US diplomatic campaign, Iran's strong response
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بندش کے باعث بڑھتے عالمی دباؤ کے درمیان امریکا نے سمندری راستہ بحال کرنے کیلئے نیا بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ناکام رہے گی اور کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ کے نام سے ایک اتحاد بنانے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت مختلف ممالک کو شامل کر کے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، معلومات کے تبادلے اور پابندیوں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔ امریکی سفارتخانوں کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس اتحاد کیلئے حمایت حاصل کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ بدستور متاثر ہے۔ ایران کی جانب سے جہازوں پر ممکنہ حملوں اور بارودی سرنگوں کے خدشات جبکہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایران کے عسکری مشیر محسن ریضای نے خبردار کیا کہ یہ ناکہ بندی کامیاب نہیں ہو گی، اور اگر دباؤ جاری رہا تو ایران تصادم کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ کا مرکز ایران کے جنوبی ساحلی علاقے ہو سکتے ہیں، جبکہ بڑے شہروں، خصوصاً تہران، میں بھی حملوں کے خدشات موجود رہیں گے۔
فروری میں شروع ہونے والی ایران-امریکا کشیدگی کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے اور یہی تنازع عالمی معیشت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔




