Hope for reduction in economic pressure State Bank receives $1 billion
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ معاہدے کی دوسری قسط ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق یہ رقم 20 اپریل 2026 کی ویلیو ڈیٹ کے ساتھ موصول ہوئی، جبکہ اس سے قبل 15 اپریل کو دو ارب ڈالر کی پہلی قسط پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جا چکی تھی۔ اس طرح مجموعی طور پر تین ارب ڈالر کا مکمل پیکیج پاکستان کو فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تازہ مالی معاونت سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ سعودی عرب نے نہ صرف تین ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس دینے کا وعدہ کیا ہے بلکہ موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ذخائر کو بھی طویل مدت کے لیے برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے پاکستان کو مالی منصوبہ بندی میں سہولت ملے گی۔
حکومت کا ہدف ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر کو تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے، جو لگ بھگ تین اعشاریہ تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہوگا، اور یہ ہدف آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے مطابق رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا 450 ملین ڈالر کا پرانا قرض بھی ادا کر دیا ہے، جبکہ سعودی مالی معاونت کو ان اخراجات کے اثرات کو متوازن رکھنے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اگر مزید تین ارب ڈالر بھی موصول ہو جاتے ہیں تو سعودی ڈپازٹس کی مجموعی مالیت آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان سعودی عرب سے تیل کی مؤخر ادائیگی کی سہولت میں توسیع کا خواہاں ہے، جو اس وقت سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی سطح پر ہے، جس کے تحت ہر ماہ تقریباً 100 ملین ڈالر کا تیل فراہم کیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس دوست ممالک کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں، جن میں سعودی عرب کے 5 ارب، چین کے 4 ارب اور یو اے ای کے 3 ارب ڈالر شامل ہیں، جو ملک کی بیرونی مالی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔




