US blockade of Hormuz, Iran's stern warning - tensions rise after failed talks
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں تناؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اقدام پر سخت ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مداخلت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی میزبانی کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا، تاہم واضح کیا کہ جوہری پروگرام پر اختلافات برقرار رہے۔
امریکی صدر کے مطابق بحریہ فوری طور پر اس اہم آبی گزرگاہ میں داخل و خارج ہونے والے جہازوں کی نگرانی کرے گی، جبکہ ایران کو ادائیگی کرنے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔ US سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ یہ کارروائی 13 اپریل سے نافذ ہو چکی ہے اور ایرانی بندرگاہوں سے متعلق بحری نقل و حرکت اس کے دائرہ کار میں آئے گی۔
دوسری جانب ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اس کے پاس ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ دیگر رہنماؤں نے بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔




